Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
31دسمبر1997
دھباد ریلوے اسٹیشن پر ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی وہ ریلوے کے محکمہ میں ملازم ہیں انہوں نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ میرا افسر مجھ سے ناراض ہوگیا۔ اس نے میری شکایت کرکے میرا تبادلہ گڑھوال کرادیا میں نے وہاں جوائن نہیں کیا یہاں تک کہ آٹھ مہینہ ہوگئے اور تنخواہ اور دوسری چیزوں کو ملاکر مجھے تقریباً70ہزار روپیہ کا نقصان ہوگیا۔
پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ افسر کچھ غلط کام کرتا تھا اس پر میں نے اسے سختی سے ٹوکا اس پر وہ ناراض ہوگیا میں نے کہا کہ آپ اپنے کام سے کام رکھتے۔ آپ کو اپنے افسر سے الجھنے کی کیا ضرورت تھی انہوں نے کہا کہ جب ناجائز ہو رہا ہو تو اس کے خلاف کیوں نہ بولا جائے میں نے کہا کہ اس دنیا میں صرف جائز اور ناجائز نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتاہے کہ کیا بس میں ہے اور کیا بس میں نہیں۔آپ نے آپ آپ کو اس کام میں ڈال دیا جو آپ کے بس میں نہ تھا چنانچہ اب آپ جھک کر معاملہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا کہ اسلام کا مطلب یہ نہیں ہے کہاں آپ کوئی ناجائز چیز دیکھیں وہاں کود پڑیں بلکہ آپ کو سب سے پہلے اپنی طاقت کو دیکھنا چاہیے اور صرف وہی کرنا چاہیے جو آپ کے اپنے بس میں ہو یہی اسلام کا حکم ہے (التغابن16)۔a