Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13جون1997
دہلی کے انگریزی اخبار پانیئر (The Pioneer)میں میرے مضامین ریگولر بنیادپر چھپ رہے ہیں یعنی ہر مہینہ ایک مضمون ۔ یہ مستقل کالم انہوں نے مضہب کے لیے کھولا ہے۔ اس مضمون اسلام کے کئی خاص پہلو پرہوتا ہے۔ اس بار یہ مضمون تصور تو خیرپر ہے اور اس کا عنوان یہ ہے:The Concept of Tauhid in Islam
ہمارے ادارے میں انگریزی شعبہ کی انچارج میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم ہیں۔ مذکورہ مضمون تیار ہوکر اور کمپیوٹر پر ٹائپ ہوکر آیا۔ یہ اس کا فائنل ورژن تھا۔ میری لڑکی نے اس کو آخری طور پر پڑھا تو ان کو وہ بہت پسند آیا۔ ان کی زبان سے بے اختیار یہ جملہ نکلا: میرے اللہ میرے پر اتنا اچھا مضمون انگریزی اخبار میں آئے گا۔
اس قسم کا جملہ کسی بندہ کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب کہ اس نے اپنے آپ کو آخری حد تک خدا کے ساتھ وابستہ (Involve)کردیا ہو۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں وہ حالت ہوئی جس کو حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ فلما یوقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارتد یہ العرب (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا) یہ ایک بے حد نازک ڈرتھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس وقت اسلام کی سیاگی ایسی ہوگئی جیسے جاڑے کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق اس صورت حال کو دیکھ کر تڑپ اٹھے اور ان کی زبان سے نکلا۔ اینقص الدین وانا حی(کیا دین میں کمی آئے گی اور میں زندہ ہوں) توحید پر مذکورہ انگریزی مضمون پانیئر میں22جون کو چھپے گا۔ انشاء اللہ۔