Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اگست1997
دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپانی ایک لڑنے والی قوم تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ ایک پرامن تعمیری قوم بن گئے۔ دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد ان کے اندر ایک نئی فکری تحریک ابھری جس کو عمل معکوس (Reverse Course)کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ میں بھی اس قسم نے ایک روسی کورس کی ضرورت تھی۔ مگر وہ بروقت وقوع میں نہ آسکا۔ یہاں تک کہ اسلام کی تاریخ جنگ اور خونریزی کی تاریخ بن گئی۔
قرآن کے مطابق اسلام میں جنگ کی اجازت صرف فتنہ (Religious Precuation)کے خلاف ہے یعنی کیا ہی تہذیب کو ختم کرنانہ خلافت راشدہ کے زمانہ تک وہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ اس کے بعد جنگ کی ضرورت باقی نہ رہی۔ الا یہ کرنا گزیر حالات میں سلف ڈیفنس کے لیے لڑنا پڑے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں خلافت راشدہ تک جہاد ایکٹوزم مطلوب تھا، اور خلافت راشدہ کے بعد دعوۃ ایکٹوزم۔
جاپان کو دوسری عالمی جنگ میں شدید نقصان کا تجربہ ہوا۔ اس نقصان نے اس کو دوڑس کورس کی طرف ڈال دیا۔ اس طرح حضرت علی کے زمانہ میں جنگ جمل اور جنگ صیفی پیں آئی جس میں نہایت قیمتی مسلمان80ہزار کی تعداد میں ہلاک ہوگئے۔ یہ حادثہ کافی تھا کہ مسلمانوں میں روڑس کورس کا ذہن پیدا ہوجائے۔ مگر عملاً ایسا نہ ہوسکا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر احادیث منقول ہیں جن میں آپ نے بدر کے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ جنگ سے روکا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں جنگ سے الگ رہے اور جب اس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قد فعلنا (جنگ کا جو کام تھا وہ ہم نے کردیا) میں سمجھتا ہوں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ختم فتنہ تک جنگ کرنے کے بعد رورس کورس کا طریقہ اختیار کرو اور جہاد ایکٹوزم کے بجائے دعوۃ ایکٹوزم کو اپنالو مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ سیاسی جوجنگ دعاؤں کی جنگوں کے نتیجہ میں ساری دنیا اسلام کو وحشی کی نظر سے دیکھنے لگی۔
اسلامی حمل حقیقتاً دعوت ہے، جنگ اسلام میں استثنائی ہے نہ کہ عمومی۔ اس لحاظ سے اسلام میں روسی فورس کا مطلب ہے یوٹرن (U-Turn)یعنی اصلی سابقہ روش کی طرف واپسی بالفاظ دیگر، مکی دور کی طرف واپسی۔