Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27ستمبر1997
پروفیسر کلیم اللہ خاں ایم ایس سی سرینگر میں رہتے ہیں۔ وہ بیک وقت نہایت ذہین بھی ہیں اور نہایت صالح بھی۔ ان کا ایک لڑکا تھا جس کا نام عمران خاں تھا۔ میں نے اس بچہ کو چند سال پہلے دیکھا تو وہ کشمیری نوجوان کی روایتی دلکش کا مکمل نمونہ تھا۔ یہ بچہ اس وقت بی ایس سی فائنل میں تھا۔ عمر20سال تھی۔23ستمبر1997کو سرینگر کی ایک سڑک سے وہ اپنے اسکوٹر پر گزررہا تھا۔
اچانک ایک گاڑی سے اس کی ٹکر ہوگئی۔ سڑک ہی پر اس کی موت واقع ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کل شام کو مجھے اس حادثہ کی خبر ملی تھی۔ آج صبح میں نے جناب کلیم اللہ صاحب سرینگر(Tel:000000)سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دوسری طرف سے کلیم اللہ صاحب کی آواز سنتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ آنسو رکتے ہی نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ20سال کا نوجوان چلا گیا اور77سال کا بوڑھا زندہ ہے۔ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس کی حکمت کیا ہے۔
عمران میاں کو دنیوی اعتبار سے سب کچھ حاصل تھا۔ دنیوی اعتبار سے وہ بلا شبہ ایک خوش قسمت نوجوان کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر دنیا میں یہ تمام مادی چیزیں کسی کو بطور امتحان ملتی ہیں نہ کہ بطور انعام۔ خدایا تونے عمران میاں کو امتحان گاہ میں سب کچھ دیا تھا۔ اب تو ان کو انعام گاہ میں بھی سب کچھ دے دے۔
دنیا میں تونے عمران کو جنت نظر کشمیر دیا، آخرت میں تو ان کو حقیقی جنت کی خوشی عطا فرما۔