Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7جون1997
عبدالرحیم صاحب (دمشق) سے اجتہاد کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔میں نے کہا کہ میں ہر چیز کی تعریف خود اپنے انداز سے کرتاہوں۔ چنانچہ اجتہاد کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ شریعت کے دو حکموں کے درمیان تضاد کو دورکرنے کی کوشش کرنا (الاجتہاد: ھو محاونہ ازالۃ التناقض بین حکمین شرعین)
مثال کے طور پر قرآن میں ختم فتنہ کے لیے لفظی کا حکم دیا گیا ہے مگر موجودہ زمانہ میں خود قتال سب سے بڑا فتنہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ قدیم زمانہ میں لڑائی تلوار سے ہوئی تھی اور اس کے نقصان کا دائرہ صرف میدان جنگ تک محدود رہتا تھا۔ مگر آج جن نئے ہتھیاروں کے ذریعہ لڑائی ہوتی ہے ان کی تخریب کسی دائرہ تک محدود نہیں رہتی۔ دشمن اور دوست حتیٰ کہ انسان کے علاوہ حیوان بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ فصلیں تباہ ہوتی ہیں۔ پانی اور ہوا تک اس کا نقصان پہنچ جاتا ہے۔1991میں جب سوویت یونین کا ستط ہوا تو اس کے پاس29ہزار ایٹم بم موجود تھے مگر وہ ان کا استعمال نہ کرسکا کیونکہ اگر وہ ان بموں کو دشمن کی تباہی کے لیے استعمال کرتا تو عین اس وقت وہ خود ہی تباہ ہوچکا ہوتا۔
اس تضاد کو رفع کرنے کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک اجتہاد یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اس جہاد صرف پرامن ذرائع سے ہوگا نہ کہ پرتشدد ذرائع سے۔ حالات کی تبدیلی نے پرتشددذرائع کو قابل ترک قراردے دیا ہے۔