Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4نومبر1997
بعد کے زمانہ میں جب احادیث رسول کی تدوین شروع ہوئی تو ساری مسلم دنیا میں حدیث کا چرچہ ہونے لگا سب سے زیادہ اہم چیز یہ ہوگئی کہ کوئی بات وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں بیا ن کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قصاص اور غیر سنجیدہ لوگوں نے اپنی خودساختہ باتوں کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا شروع کردیا اس طرح ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں موضوع حدیثیں وجود میں آگئیں۔ اس کے بعد یہ موضوع حدیثیں واعظوں اور خطیبوں کی زبان پر جاری ہوئیں اور کتابوں میں لکھ دی گئیں۔ اس طرح یہ ایک مستقل فتنہ بن گیا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ہمارے خطباء اور واعظینی احتمام کے ساتھ اس قسم کی حدیثوں کو بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل حدیثیں قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کی جانی ہیں مگر وہ بالکل بے اصل ہیں۔
ارفنوا سرتاکم وسط قوم صالحین۔۔۔(اپنے مردوں کو نیک لوگوں کے درمیان دفن کرو) صلاۃ رجل فی جماعۃ افضل من صادقھانی بیتہ اربعین سنۃ (چالیس سال تک گھر میں پڑھی جانے والی نماز سے زیادہ افضل جماعت کی ایک نماز ہے)
لاالہ الااللہ حصنی ومن دخلہ امن عذابی (لاالہ الاللہ میرا قلعہ ہے اور جو اس میں داخل ہوجائے وہ میرے عذاب سے مامون ہوگیا)