Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3جون1997
قرآن میں ہے کہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم (الفتح29)یعنی اہل ایمان منکرین پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔ اس کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ اہل حدیبیہ کافروں پر سخت تھے۔ وہ ان پر ایسے سخت تھے جیسے شیر شکار کے لیے ہوتا ہے۔ (اھل الحدیبیہ اشداء علی الکفار، اس غلاظ علیہم کا اسد علی فریسہ) تفسیر القرطبی جلد8۔ صفحہ292۔
یہ تفسیر صحیح نہیں۔ حدیبیہ میں اہل ایمان نے جو کردار اداکیا وہ شکار کے اوپر شیروالا کردار نہیں تھا بلکہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اصل یہ ہے کہ شدید علی کے وہ بھی نہیں ہیں جو اکثر مفسرین نے لیے ہیں ھو شدید فا علی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مجھ پر مارپیٹ کرتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ برااثر قبول کرنے کے معاملہ میں سخت ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان منکرین کے لیے غیر اثر پذیر ہیں۔ بالفاظ دیگر ان کا رویہ رد عمل کے تحت نہیں بنتا بلکہ خود اپنے اصولوں کے مطابق بنتا ہے۔ آیت کی یہ تفسیر خود قرآن کی اسی سورہ میں موجود ہے۔ جدیبیہ میں جو واقعہ گزراتھا اس کو بیان کرتے ہوئے قرآن میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی۔ جاہلیت کی حمیت پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکبت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس سے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے (الفتح26)
حدیبیہ کے واقعہ کے پس منظر میں ابتداء علی الکفار کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین نے اس موقع پر ہر قسم کی اشتعال انگیزی کی مگر اہل ایمان مشتعل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہل ایمان کوعمرہ کرنے سے روکا، انہوں نے حالت نماز میں ان پر پتھر مارے۔انہوں نے ایک صحابی کو قتل کردیا، انہوں نے یکطرفہ شرائط پر صلح کے لیے بلایا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں غصہ دلانے والی تھیں اور ایسی تھی کہ اہل ایمان بھڑک کر مخالفین سے لڑجائیں۔ مگر انہوں نے ان متقی کارروائیوں کا اثر قبول نہیں کیا۔ وہ یکطرفہ طور پر بغثیت رویہ پر قائم رہے۔ یہی مطلب ہے اشداء علی الکفارہ۔