Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19دسمبر1997
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان ایک عجیب و غریب سرگرمی وہ ہے جو تحفظ ختم نبوت کے نام پر جاری ہے۔ جگہ جگہ عالی شان جلسے اور کانفرنسیں اس مقصد کے لیے ہورہی ہیں۔ میرے پاس جو اس کے لیے ہے کم سے کم لفظ ہے وہ بے معنی سرگرمی۔
عربوں کا ایک مقولہ ہے تعرف الاشیاوبا ھذارھا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) ۔اس اصول پر پرکھ کر اس معاملہ کو سمجھیے۔ حدیث کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ نبی آئے۔ مگر آج کسی نبی کی تعلیمات اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں۔ دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات استثنائی طور پر چودہ سو سال سے اپنی اصل صورت میں موجود اور محفوظ ہیں۔
یہ فرق کیوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ ناپسندیہ ہے کہ کسی نبی کی تعلیمات غیر محرف صورت میں انسان کے پاس موجود رہیں۔ چنانچہ شیطان کا پورا لشکر نبیوں کی تعلیمات کے خلاف سرگرم ہوگیا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ فرمایا کہ نبوت کا سلسلہ ختم کردیا جائے تو اسی کے ساتھ یہ انتظام بھی فرمایا کہ شیطان کا لشکر پیغمبر آخر الزماں کی تعلیمات کو محو کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
تحفظ نبوت شیطان کے پورے لشکر سے لڑنے کام نام ہے۔ پھر کون ہے جو شیاطین کے لشکر سے لڑکر جیت سکے ۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اور اس نے اپنے اختیار سے یہ انتظام اتنے اعلیٰ پیمانے پر کردیا ہے کہ اب کسی کو تحفظ نبوت کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب مسلمانوں کو خود اپنی دینداری کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا۔