Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20اگست 1997
آج رات کو نظام الدین (دہلی) میں خواب دیکھا۔ میں نے خواب میں مولانا ابو اللیث ندوی (سابق امیر جماعت اسلامی ہند) کو دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ابواللیث اس دن مرا جب کہ اس پر موت آئی یا وہ اسی دن مرگیا تھا جب کہ اس کو جماعت اسلامی کا امیر بنایا گیا۔ اس خواب کے ساتھ نیند کھل گئی۔ اٹھ کر گھڑی دیکھی تو اس وقت رات کے ڈھائی بجے تھے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس خواب میں مولانا ابواللیث صاحب کا نام علامتی ہے۔ اور اس سے مراد عوامی عہدہ ہے۔ عوامی عہدہ خواہ وہ مذہبی ادارے کا ہونا سیکولر ادارے کا ماہرحال میں ضمیر کی موت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ آدمی کے اپنے دل کی آواز کچھ اور ہوتی ہے۔ اور اس کو دوسروں کی رعایت سے کچھ اور بولنا اور کرنا پڑتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے اس قسم کی موت سے محفوظ رکھا۔ میں اپنی پوری زندگی اپنی غیر کی آواز پر جیتا رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے کہ اس نے مجھے ایسے حالات میں رکھا کہ میں ضمیر سے سمجھوتہ کئے بغیر زندہ رہ سکا۔