Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3مئی1997
قرآن اور حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک عام اصول یہ ہے کہ اس کے وقتی الفاظ کو ابدی مناظر میں دیکھا جائے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قدیم بائبل میں خدانے دو فرشتے بھیجے جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ مگر ساتھ ہی وہ کہتے تھے کہ: نحن فتنۃ فلا تکفر ۔غور کیا جائے تو یہ قول صرف مذکورہ فرشتوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا ایک عمومی پہلو ہے حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز فتنہ ہے۔ مال اولاد سے لے کر سورج چاند۔ ہرچیز فتنہ ہے۔ دنیا کی ہر چیز زمان حال سے یہی کہہ رہی ہے کہ نحن فتنۃ فلا تکفر۔ خاموشی فتنوں سے بھری ہوئی دنیا میں خدانے ایک ناطق فتنہ کی مثال قائم کردی۔ جو الفاظ کی زبان میں وہی بات کہہ رہی تھی جس کو دوسری چیزیں خاموشی کی زبان میں بول رہی ہیں۔