Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16اکتوبر1997
اٹلی کے سفر میں میں نے وہاں کے ایک پروفیسر سے پوچھا کہ اٹلی میں سیاسی استحکام (Political Stability)نہیں ہے۔ باربار حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں اقتصادی ترقی کا عمل جاری ہے۔ چنانچہ ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی کی اقتصادیش شرح ترقی (Growth rate)یورپ کے دوسرے ملکوں سے زیادہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا رازکیا ہے۔
انہوں نے جواب دیا کہ اس کی وجہ ہمارے سسٹم کا استحکام ہے۔ لمبی عزت کے تحمل کے نتیجہ میں ہمارے یہاں ایک مستحکم اقتصادی ڈھانچہ بن گیا ہے۔ حکومتیں اوپری سطح رپ بزنس رہتی ہیں۔ مگر مستحکم ڈھانچہ کی سطح پر اقتصادی ترقی کا عمل بدستور جاری رہتا ہے۔
مسلم دنیا میں بھی ایک ہزار سال تک ایک اور پہلو سے یہی صورت حال قائم تھی۔ اسلام کی بنیاد پر جو سماجی ڈھانچہ دوراول میں بنا تھا وہ اتنا مستحکم تھا کہ صدیوں تک مسلسل قائم رہا۔ حکومتی سطح پر باربار تبدیلیاں پیش آئیں۔ مگر دینی سماجی ڈھانچہ چونکہ اپنی جگہ قائم تھا اس لیے کوئی براتو نقصان پیش نہیں آیا۔ موجودہ زمانہ میں مختلف اسباب سے یہ سماجی ڈھانچہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلم رہنماؤں کا یہ کام تھا کہ وہ اس سماجی ڈھانچہ کو دوبارہ دینی بنیاد پر قائم کریں۔ مگر انہوں نے غلط تشخیص کے نتیجہ میں اقتدار کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ ہر جگہ اقتدار سے ٹکراتے رہے۔ اس کے نتیجہ میں تباہی کے سوا کچھ اور کامل نہیں ہوگا۔ اگر وہ سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کرنے اور دوبارہ اس کا ڈھانچہ کی تشکلی کرتے جس طرح اس سے اور وہی غیر سیاسی عمل کرتے جو محدثین ، فقہہ صوفیا علما اور مساجد مدارس کے ذمہ دار بنالیا کہ تاریخ دوبارہ لوٹ آئی۔