Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم اگست1997
پٹنہ کی خدابخش اورینٹل لائبریری نے ایک سمینار کیا۔ اس کا موضوع تھا: ’’مسلمانوں میں دانشوری کی روایت‘‘۔ میرے نام بھی اس کا دعوت نامہ آیا مگر میں اس میں نہ جاسکا۔ میں نے انہیں لکھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دانشوری کا وجود ہی نہیں، پھر میں ان کی کیا روایت بیان کروں گا۔
موجودہ زمینہ میں مسلمان ہر جگہ غیر دانشمندانہ اور ہردوسروں سے ٹکراجاتے ہیں اور نتیجہ میں ذلت آمیز شکست کے سوا کچھ اور ان کے حصہ میں نہیں آتا۔ غیر مساوی ٹکراؤ کی اس نادانی کے تمام تر ذمہ دار ہمارے دانشور ہیں۔
جب بھی کسی سے نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے تو یہ لوگ کبھی پرامن تدبیر کی بات نہیں کرتے۔ وہ جذباتی الفاظ بول کر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ بدرمیں تو مسلمان صرف313تھے۔ آج تو تم اس سے بہت زیادہ ہو، یہ ایک جاہلانہ بات ہے۔ کیوں کہ بدر میں مسلمان اگرچہ 313تھے مگر فرشتوں کی طاقت ان کی مددپر موجود تھی۔ اس طرح ان کی طاقت ناقابل شکست حد تک زیادہ ہوچکی تھی۔ جب کہ آج کے مسلمانوں کو فرشتوں کی یہ مدد حاصل نہیں۔ فرشتوں کی یہ مدد ایک استثنائی چیز تھی جو خود صحابہ کو بھی بدر کے سوا کبھی حاصل نہیں ہوئی۔
اس طرح کشمیر کی جنگ جو1989میں شروع ہوئی وہ صرف ایک نامساوی طاقت سے بے نتیجہ ٹکراؤ کے ہم معنی تھی۔ پھر ایسا احمقانہ اقدام کشمیری مسلمانوں نے کیوں کیا۔ اس کا سبب دوبارہ مسلم دانشور کا۔ ان مسلم دانشوروں نے افغانی جنگ میں روس کے مقابلہ میں کامیابی کو تمام تر افغانیوں کے جوش جہاد کا نتیجہ بتایا۔ حالانکہ یہ ایک پراکسی وار تھی اور وہ امریکہ کی مدد کے بل پر جیتی گئی۔ مسلم دانشوروںنے اس میں امریکہ کے رول کو حذف کرکے صرف افغانیوں کے کردار کو انتہائی مبالغہ آمیز بناکر بتایا۔ اس سے کشمیری مسلمان یہ سمجھے کہ ہم بھی اسی طرح انڈیا سے لڑکر جیت سکتے ہیں۔ مگر یہاں کی بڑی طاقت کی مدد حاصل نہ تھی اس لیے کشمیریوں کی جنگ صرف تباہی پر متبح ہوگئی۔