Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10ستمبر1997
برطانیہ کی پرنسس ڈائنا کا36سال کی عمر میں ایک کارحادثہ میں انتقال ہوگیا۔ وہ اپنے نئے دوست کے ساتھ پیرس میں ایک کار میں سفر کررہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ڈرائیور بہت زیادہ شراب پئے ہوئے تھا۔ اس نے تیز دوڑاتے ہوئے کار کو سڑک کے ایک پول سے ٹکرادیا۔ اس کے بعد پرنسس ڈائنا اچانک ساری دنیا میں ہیروبن گئیں۔ نہ صرف عیسائیوں بلکہ خود مسلمانوں میں بھی ان کی دھوم مچ گئی۔ مسٹر شکیل احمد انجینئر (مقیم دبئی) دہلی آئے تو انہوں نے پرنسس ڈائنا کے بارے میں غیر معمولی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
Princess Diana will become lady of the country.
میں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے حسب ذیل رائے دی:
ڈائنا کے بارے میں اگرچہ اس وقت ساری دنیا میں تقریباً اسی قسم کی رائے ہے لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، مجھے یقین ہے کہ یہ ایک وقتی ظاہرہ ہے۔ بہت جلد وہ وقت آئے گا جب ڈائنا تاریخ کے اندھیرے میں گم ہوچکی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈائنا کو اس وقت جو مقبولیت ملی ہے وہ صرف جذباتی ہمدردی کی بناپر ہے جبکہ مستقل مقام تاریخ میں صرف تخلیقی کام کی بنا سے ملتا ہے۔