Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4اپریل1997
سچے اہل ایمان کے لیے بیک وقت دو قسم کی باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک مطمئن روح نصیب ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مومن ایک مستقل اضطراب کی حالت میں رہتا ہے۔ یہ دو طرفہ باتیں کیوں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مومن کا مسلک مادی اقدر میں قناعت ہوتا ہے۔ اس کا یہ جذبہ قناعت اس کو مادی اعتبار سے ہر حال میں مطمئن رکھتا ہے۔ لیکن آخرت کے عقائد میں وہ ہمیشہ محاسئہ آخرت کو سامنے رکھتا ہے، چنانچہ نیبلس کا عقیدہ سے بے چینی کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔ اس طرح مومن بیک وقت دو مختلف کیفیات کے درمیان جیتا ہے۔