Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10جون1997
6دسمبر1992کو جب بابری مسجد (اجودھیا) ڈھائی گئی تو تمام علماء اور مسلم دانشور یہ مطالبہ کرنے لگے کہ ’’مسجد دوبارہ وہیں بناؤ‘‘ اس کے برعکس میں نے کہا کہ اس معاملہ میں مسلمان اب اپنا ایجی ٹیشن ختم کردیں۔ اس پر تمام لوگ میرے مخالف ہوگئے۔ اردو اخبارات مسلسل میرے خلاف مضامین شائع کرنے لگے۔ لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اب ہرطرف لوگ وہی بولی بول رہے ہیں جس کو پہلے صرف الرسالہ کی بات سمجھا جاتا تھا۔
انیک کی یہ صورت حال تھی کہ اردواخباروں میں صرف میرے خلاف مضامین چھپتے تھے لیکن اب ان اخباروں میں میری حمایت میں بھی مضامین اور مراسلے چھپنے لگے ہیں۔ اردو ہفت روزہ نئی دنیا میں پچھلے چند مہینے سے ہو میرے خلاف کئی مضمون اور مراسلے شائع ہوئے مگر یہ معاملہ کافی منہ رہا بلکہ اس میں ایسے مضامین اور مراسلے بھی شائع ہوئے جن میں میری کھلی حمایت کی گئی تھی۔ مثال کے طور پر نئی شمارہ10-16جون1997سے کلکتہ کے ایم اے خان کا مفصل مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مخالفین کے ہر پوائنٹ کا جواب دیا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:
منظورعثمانی صاحب کہتے ہیں کہ مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی خدمت ملی ہیں مدرٹریسا کا عنویشو نہیں ہیں۔ میں کہتاہوں کہ مدرٹریسا کچھ نہیں ہیں کیونکہ وہ صرف چند بھوکے افراد کو کھانا اور ننگے کو کپرا دوسرے سے لیکر دے رہی ہیں۔ جب مدرٹریسا نہ ہوں گی تو ان کا مشن بند ہوجائیگا جب کہ مولانا اپنی محنت اور آہ سحرگاہی سے صدیوں سے فکرکے محتاج عالم اسلام کے صحیح غذا دے رہے ہیں جو ایک شاندار یہاں انقلاب لائے گا اور ان کا مشن مولانا کے بعد بھی جاری رہے گا۔