Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21مئی1997
استاد عبدالرحیم (دمشق) سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ قرآن وحدیث کے مطابق یہود اور مسلمانوں میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں ہی یکساں طور پر قانون فطری کی زد میں ہیں۔ یعنی جس رطح یہود پر زوال آیا ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کی بعد کی نسلوں پر زوال آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم میں اور یہود میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ قانون زوال کے زد میں ہونے کے اعتبار سے تو کوئی فرق نہیں ہے البتہ ایک اور اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
وہ فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس غیر محرف کتاب موجود ہے جب کہ یہود کے پاس آسمانی صحیفہ کے نام سے جو کتاب ہے وہ ایک محرف کتاب ہے۔ اس فرق کی بناپر ہمارے پاس تجدیدی عمل کے لیے صحیح معیار موجود ہے، لیکن یہود کے پاس تجدیدی عمل کے لیے صحیح معیار موجود نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمان خود اپنے ہی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے درمیان تجدیدی عمل کا آغاز کرسکتے ہیں۔ جبکہ یہود یا عیسائیوں کے لیے نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی دائرہ سے نکلیں اور اسلام میں داخل ہوجائیں۔