Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30مارچ1997
آج تین امریکی پروفیسر ملاقات کے لیے آئے۔ وہ یہاں ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل، خاص طور پر کشمیر کے مسئلہ پر جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:
Howard B. Schaffer Joseph E. Schwartzberg Robert G. Wirsing
وہ لوگ تقریباً دو گھنٹے تک بات کرتے رہے۔ میرا نقطۂ نظر مکمل طور پر ان کی سوچ سے مختلف تھا۔ مثال کے طور پر ان کی سوچ یہ تھی کہ کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جبکہ میرا کہنا یہ تھاکہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا پس نہیں ہے۔ میں نے کہا تھا صدام حسین نے جب کویت پر حملہ کیا تھا اس کے بعد اقوام متحدہ کے اجازت پانے کے تحت امریکہ نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی تو وہاں کے شہریوں کو غیر معمولی مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر کوئی بھی نہیں کہتا کہ یہ مضمون انسانی کی خلاف ورزی تھی۔
یہی معاملہ کشمیر کا ہے۔ کشمیر میں1959سے پہلے مکمل Peaceقائم ہواتھا لیکن اکتوبر1959میں جب کشمیریوں نے Swadishکے خلاف بم اور گن اٹھایا تو اس کے جواب میں انڈیا نے بھی کارروائی کی۔
حقوق انسانی کے خلاف ورزی کا مقابلہ اس طرح کے واقعات سے نہیں ہے بلکہ نارمل حالات کے لیے ہے۔ میری یہ بات ان لوگوں کے خفطہ شطر کے بالکل خلاف تھی مگر انہوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ میری محصل گفتگو کو سزا اور اس کے نوٹ لیے۔