Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14جولائی1997
امام الغزالی نے جس زمانہ میں دمشق میں بیٹھ کر اپنی کتاب احیاء علوم الدین لکھی، اس وقت فلسطین پر صلیبیوں کا غلبہ تھا۔ مگر امام الغزالی نے اپنی کتاب میں ’’جہاد‘‘ کا کوئی باب قائم نہیں کیا۔ اس پر شیخ علی الطنطاوی نے تعریف عام بدین الاسلام میں لکھا ہے کہ اس طرح الغزالی نے اس کتاب میں مسلمانوں سے جہاد کی روح ختم کرنے کی کوشش کی اور ان کے اندر تفطل اور جمود پیدا کیا۔
موجودہ زمانہ کے مسلم علماء اور دانشور عمل کے نام سے صرف متشددانہ عمل کو جانتے ہیں، پر امن عمل کی اہمیت سے وہ بالکل ناواقف ہیں۔ شیخ علی الططاوی کے مذکورہ تبصرہ کا اصل سبب یہی ہے۔ تاہم امام الغزالی کی کتاب کے بارے میں مجھے ایک اور شکایت ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں الامر بالمعروف والنہی عن المنکر کا باب کو قائم کیا مگر انہوں نے اپنی اس کتاب میں دعوت اور تبلیغ کا کوئی بات قائم نہیں کیا۔ حالانکہ اس کے خارجی عملی کا اصل عنوان یہی فطرت اور تبلیغ ہے۔