Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14اکتوبر1997
دیوبند کے دو عالم ملنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ مسلمان چپ ہوجائیں۔ کیا اس قسم کی خاموشی ایمان و اسلام کے خلاف نہیں۔ میں نے کہا کہ اجودھیا کی مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کا کام1992میں نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے وہ1949میں ہوچکا تھا۔ اس وقت مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دی گئیں اور ہندو مسجد کے اندر داخل ہوکر اس کی پوجا کرنے لگے۔ یہ سلسلہ برابر آخری وقت تک جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ6دسمبر1992سے بہت پہلے وی پی سنگھ نے کچھ مسلم نمائندوں سے کہا تھا کہ ارے بھائی اب وہ مسجد کہاں ہے وہ تو رام للا کا مندر ہے۔1949میں مولانا سید حسین احمد مدنی موجود تھے۔ اس کے بعد وہ1957تک زندہ رہے۔ مگر انہوں نے وہی کیا جو میں کہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ سچے مسلمان نہ تھے۔بلکہ اصل یہ ہے کہ اس طرح معاملہ میں صرف دوقسم کا رویہ درست ہے۔جبراً اقدام۔ اگر طاقت ہے تو اقدام کرے اگر طاقت نہ ہو تو صبر۔
مولانا مدنی نے محسوس کیا کہ موجودہ حالات میں وہ اقدام کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لیے انہوں نے صبر کرلیا۔ یہ تیسرا رویہ ہے کہ آدمی اقدام کی باتیں کرے مگر وہ اقدام نہ کرے۔ یہ تیسرا رویہ منافقانہ ہے اور مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ منافقانہ رویہ اختیار کرے۔