Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5نومبر1997
سیرت کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ عمر فاروق نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو وہ اعلان کے ساتھ اور چیلنج کے ساتھ نکل کر روانہ ہوئے۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کی تو آپ چھپ کر رات کے وقت مکہ سے نکلے اور نہایت احتیاط کے ساتھ سفر کیا (ھاجر عوحلانیۃ متحہد یا المشرکین دون ای خوف ورجل علی حین ھاجر رسول اللہ مستنفینا محتاطاً لنفسہ) فقہ السیرہ144۔
اس معاملہ میں دونوں کے درمیان تقابلی کیا جائے تو بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ عمر فاروق جرأت مند تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ، غیر جرأت مند۔ مگر اس قسم کا تقابلی درست نہیں اس طرح کے واقعات ہمیشہ وقتی حالات کے تابع ہوتے ہیں، وہ کسی مطلق معیار کے تابع نہیں ہوتے۔ یہ دراصل پریکٹیکل وزڈم ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس موقع پر کون سا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں رسول الہ کا طریقہ حقیقت پسندی پر مبنی تھا حضرت عمر کی حیثیت صرف ایک فرد مسلم کی تھی۔ نیز اس وقت تک انکے قبیلہ نے انکو اپنی حمایت سے خارج کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف رسول اللہ کی حیثیت قائد تحریک کی تھی مزید یہ کہ آپ کو آپ کے قبیلہ کے سردار (ابولہب) نے قبیلہ کی حمایت سے خارج کردیا گھا۔ اس قسم کا اخراج قبائلی دور میں بے حد سنگین حیثیت رکھتا تھا۔