Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3جولائی1997
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوئک الفرات ان یمسر عن کمزمن ذھب نمن حضر فلایاخذمنہ شیئا (متفق علیہ) یعنی قریب ہے کہ ذات میںسونے کا خزانہ ظاہر ہو تو جو اس زمانہ کو پائے تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔(مشکوٰۃ العلوم جلد3۔صفحہ495)
اس حدیث میں واضح طور پر اس واقع کی پیشین گوئی ہے جو مشرق اوسط میں موجودہ صدی میں پیش آیا یعنی عرب ملکوں میں دریافت ہونے والا تیل، جس کو اس کی غیر معمولی قیمت کی بناپر ستپال سوہا کہا جاتا ہے ۔ کام جس کے مطابق اس نعمت کی حیثیت جنت کے ’’شجر ممنوعہ‘‘ کی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ عام دنیا کے مسلمان اس شجر نمونہ کا پھل لینے کے لیے اس کی طرف موڑ پڑے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیل کی یہ دولت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اخلاقی زوال کا سبب بن گئی۔ اس نے ساری دنیا کے مسلمانوں میں تنافس کی وہ کیفیت پیدا کی جو اس سے پہلے کبھی مسلم معاشرہ میں نہیں پائی گئی۔