Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16جون1997
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے اجتناب کرو۔(النحل36)قرآن میں کئی چیزوں کے لیے طاغوت کا لفظ آیا ہے۔ شیطان، جادوگر، سردار، نفس، متمرد بادشاہ، معبود باطل۔ مفسرین عام طور پر ان الفاظ کو عطف کے ساتھ بیان کردیا کرتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک طاغوت کا لفظ بیک وقت کئی معنی کے لیے آیا ہے۔ اس کو لے کر اسلام کی سیاسی تفسیر کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ طاغوت سے مرادسیاسی حکمراں ہیں۔ اور شرک کی ایک قسم شرک سیاسی ہے۔
مگر یہ استدلال درست نہیں۔ قدیم زمانہ میں سائنٹفک تجزیہ کا انداز رائج نہ تھا۔ اس لیے مفسرین کے یہاں مذکورہ قسم کے بیانات پاے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاغوت کے لغوی معنی حد سے تجاوز کرنے والے کے ہیں۔ اس سے مراد صد شیطان ہے۔ بقیہ چیزوں کے لیے طاغوت کا لفظ مجازی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایسا ہی خط ہے جیسے کوئی آدمی بہت شریرہوتو اس کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تم شیطان ہو۔ اسی طرح کے قول میں شیطان کا لفظ مجازی معنی میں ہے نہ کہ اصلی معنی میں۔