Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4دسمبر1997
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (13نومبر1997) میں سعودی علماء کا ایک مذاکرہ چھپا ہے۔ اس کا موضوع یہ ہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کے حدائق کیسا ہیں اس سلسلہ میں ان کو ایک رکاوٹ یہ نظر آئی کہ قرآن میں کافر سے برات کا اور تعلق نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ایسی حالت میں ان کو دعوت کس طرح دی جائے اس کا جواب دیتے ہوئے۔ الدکتور عبداللہ المطلق نے کہا کہ کافر کے خیر کے لیے محبت اور کافر سے محبت میں فرق نہ کرنا بہت سے مسلمانوں کے لیے دعوتی عمل میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ کافر کے لیے خیر کی محبت کرنے کا نام ہدایت سے (دعوت) اور وہ ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اور جہاں تک کافر کی بات سے محبت کا تعلق ہے تو وہ جائز نہیں کیونکہ وہ اس قرآنی حکم سے ٹکراتی ہے۔ جس میں کافر سے برات کی تعلیم دی گئی ہے۔
نبہ الدکتور عبداللہ المطلق الی الکثیر من المفاھیم الخاطبۃ التی تعوق الدعوۃ بین غیر المسلمین والتی یفع فیھا کثیر من المسلمین ومن ھذہ الفاھیم۔
عدم التفریق بین محبۃ الخیر للکا فروحجبۃ الکافر انمعبۃ الخیر للکافر ھی الھدایۃ وھی واجب کل مسلم، فالدعوۃ ھی الخیر امامھم الکافر فھذہ غیوز لائنا تضاد البرائ الذی امراللہ تعالی بہ واحبر جہ علی الناس۔
یہ ایک عجیب بات ہے داعلی کو اگر کافر سے محبت نہ ہو تو وہ حقیقی طور پر وعدت کا عمل انجام نہیں سے سکتا حقیقی دعوت کا سرچشمہ محبت ہے اصل یہ ہے کہ قرآن میں جس کافر سے برات کا حکم دیا گیا ہے وہ پیغمبر کے معاصر فی طبین تھے جو اتمام حجت کے باوجود منکر بنے رہے موجودہ زمانہ کے غیر مسلم اس معنی میں کافر نہیں ہیں۔ ان کی حیثیت سادا طور پر انسان کی ہے ان کو ہمیں سمجھ کر معاملہ کرنا ہے نہ کہ کافر سمجھ کر یہ ذہن انسانی خیرحواس پیدا کرتا ہے اور انسانی خیر خواہی دعوت کے عملی لازمی شرط ہے۔