Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17اپریل1997
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں ایک پوداہو اوراس کے بارے میں ہو کہ قیامت نہ برپا ہو۔ یہاں تک کہ وہ اس کو زمین میں لگادے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو لگادے کیونکہ اس کے بدلے اس کے لیے اجر ہے(ان قامت الساعۃ وبید احدکم فسیلۃ فاستطاع الاتقدیم حتی بغیرسھا فلیغر منھا فلۃ ہذاالکتاجز) مسند احمد۔
فسیلۃ کے ابتدائی معنی کھجور کے پودے کے ہیں مگر وسیع تر استعمال میں وہ ہر دخت کی شاخ (قلم) کے لیے بولا جاتا ہے۔ موجودہ استعمال کے لحاظ سے اس کو شجرکاری کہا جاسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں اس کی اہمیت کتنی زیادہ ہے کہ زمین کو ہرابھرا رکھا جائے۔ اسلام میں ایک طرف درخت کو کاٹنے پر پابندی لگائی گئی ہے اور دوسری طرف شجرکاری کی اتنی زیادہ اہمیت بتائی گئی کہ اگر تم دیکھو کہ قیامت آرہی ہے اور زمین فنا ہونے والی ہے تب بھی اگر تمہارے بس میں ہو کہ ایک پودا زمین پر گاڑدو۔ کیونکہ اصل اہمیت تمہارے اپنے جذبہ کی ہے۔ اور ایسا کرکے تم بے خبر حال اپنے جذبہ کی تکمیل کردی۔
اس حدیث کے استعمال کو مزید وسیع کیا جائے تو اس میں اور بہت سی چیزیں شامل ہوجائیں گی۔ مثلاً یہ کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں تعمیری کام اور سماجی خدمت کے میدان میں مشغول رہے۔ کسی بھی حال میں وہ اپنے آپ کو عمل سے نہ روکے۔