Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11مئی1997
مولانا امین احسن اصلاحی اعظم گڑھ کے ایک گاؤںبمہور میں پیدا ہوئے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح میں صدر مدرس تھے۔ تقسیم کے وقت وہ پاکستان چلے گئے۔ غالباً1949میں وہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے ہندوستان آئے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ چند آدمیوں کے ساتھ میں بھی ان سے ملنے کے لیے بمہور گیا۔ جب وہ ہندوستان پہنچے تو حسب قاعدہ انہیں پولس رپورٹنگ کے لیے پولس اسٹیشن جانا پڑا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنے ملک میں وزیراعظم کو ڈانٹ سکتا ہوں مگر یہاں میں نمبردس کا مجرم ہوں۔
ہندوستان میں ایک مسلمان اتنا ہی آزاد ہے جتنا کہ پاکستان میں مولانا امین احسن اصلاحی آزاد تھے۔ لیکن جب ایک ہندوستانی مسلمان پاکستان جاتا ہے تو وہاں اس کو اس طرح پولس رپورٹنگ ما مسئلہ پیدا ہوتا ہے جس طرح مولانا امین احسن اصلاحی کے لیے ہندوستان میں پیش آیا۔ گویا کہ ایک ہندوستانی مسلمان بھی پاکستان میں انہیں کی طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اپنے ملک میں پردھان منتری کو ڈانٹ سکتا ہوں مگر میں پاکستان میں نمبر دس کا مجرم ہوں۔
کس معاملہ کو صحیح سمجھنے کے لیے صحیح تقابل ضروری ہے۔ اگر آدمی تقابل میں غلطی کرے تو اس کا نکالا ہوا نتیجہ بھی غلط ہوجائے گا۔