Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2مارچ1997
پاکستان کے نئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت 30بلین ڈالر کا مقروض ہے اور ہم کو ایک تباہ حال معیشت ورثہ میں ملی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اقتصادی سدھار کے لیے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے ان میں سایے یہ ہے کہ آئندہ پاکستانی دفتروں میں جمعہ کے بجائے اتوار کو چھٹی ہوا کرے گی۔ (قومی آواز2مارچ1997)
پاکستان بننے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے علماء نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس لیے یہاں اتوار کے بجائے جمعہ کو چھٹی ہونی چاہیے۔ مسلسل مطالبہ کے بعد پاکستانی حکومت نے اس کو رائج کردیا۔ مگر پچاس سالہ تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک تباہ کن بات تھی۔ کیونکہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک تواتوار کو تعطیل کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے تجارتی تعلق عالمی تجارتی اداروں کے ساتھ بگڑگئے اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ’’اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی‘‘ کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں ہے یہ ایک مذہبی جنون ہے۔ اور موجودہ زمانہ میں اس مذہبی جنون نے مسلمانوں کو ساری دنیا میں نہ صرف پیچھے کردیا ہے بلکہ انہیں تباہ کرکے رکھ دیا ہے اس جنون کا اسلام سے غیر متعلق ہونا اس سے ثابت ہے کہ قرآن میں سورۃ جمعہ میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو کاروبار چھوڑکر آجاؤ اور جب جمعہ کی نماز ختم ہو تو دوبارہ اپنے کاروبار میں واپس چلے جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن کاروبار بند کرنے کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ مسجد میں آکر وہ اس طرح جمعہ کی نماز ادا کریں جس طرح وہ بقیہ دنوں میں وہ ظہر اور دوسری وقت وقت پر مسجد میں آکر اداکرتے ہیں۔