Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13مئی1997
قرآن میں یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ نبی کی مجلس میں رفع صوت نہ کرو۔ ورنہ تمہارے اعمال ضبط ہوجائیں گے (الحجرات2)مدینہ میں بعض اوقات یہ صورت پیش آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما رہے ہیں۔ اس دوران مجلس میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگ زور زور سے بولنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو مت دے کل ہوگیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکم صرف آپ کی زندگی کے لیے نہیں تھا، وہ آج بھی پوری طرح باقی ہے۔ بلکہ آج اس کی نوعیت شدید تر ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں لاؤڈاسپیکر ،پریس اور میڈیا جیسی چیزوں نے یہ ممکن بنادیا ہے کہ زیادہ بڑے پیمانہ پر رفع صورت کیا جاسکے۔ یعنی اتنا غوغہ برپا کیا جائے کہ دوسری آواز اس کے نیچے دب کر رہ جائے۔ مثلاً اللہ کا ایک بندہ پیغمبر کی ایک بات کا اعلان کرے۔ مگر دوسرے لوگ اپنی غیر صحیح باتوں کی اتنی دھوم مچائیں کہ حق بات ان کے مسئلہ پر غوغا میں گم ہوجائے تو یہ بھی عین وہی جرم ہے جس کا ذکر مذکورہ آیت میں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام یا پیغمبر اسلام کے نام پر کوئی بات کو کہنا بے حد نازک بات ہے۔ یہ کام صرف ان لوگوں کو کرنا چاہیے جنہوں نے فی الواقع اس کا حق ادا کیا۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ جب بھی کسی کے ذہن میں کوئی خرابی آجائے تو وہ اسلام کا نمائندہ بن کر اس کی اشاعت کرنے لگے۔ حق بات کا اعلان بلاشبہ عظیم ترین نیکی ہے۔ مگر اس اعلان کا حق صرف اس شخص کو پہنچتا ہے جس نے نبی کی دریافت کے لیے عظیم ترین جدوجہد کی ہے۔