Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23ستمبر1997
ایک تعلیم یافتہ یہودی ڈاکٹر یہویاڈاھیم (Dr. Yehayada Haim)سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میری پیدائش عراق میں ہوئی۔ وہاں میں نے عربی سیکھی۔ عربی سمیت وہ پانچ زبانیں جانتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عراق میں جویہودی اقلیت آباد ہے وہ مسلم کلچر سے کافی متاثر ہے۔ مثلاً وہ خدا کے لیے اللہ کا لفظ بولتے ہیں۔ وہ السلام علیکم کہتے ہیں وغیرہ اسی طرح اور بہت سے مسلم طریقے ان کے درمیان رائج ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مراکو، مصر اور دوسرے مسلم ملکوں میں جہاں یہودی آباد ہیں ان سب کا حال یہی ہے۔ ان یہودیوں کا کلچرل اسلامائزیشن ہوچکا تھا، اب صرف اس کا اعتقادی اسلام بزنس کرنا تھا۔
میں نے سوچا کہ مسلمانوں کے اندر اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ یہودی کو مدعو کی نظر سے دیکھتے۔ وہ ان کے درمیان دعوتی عمل کرتے۔ عین ممکن تھا کہ اس کے بعد ان یہودیوں کی بڑی تعداد مسلمان ہوجاتی۔ مگر مسلمانوں نے ساری دنیا میں یہودیوں کو دشمن کی نظر سے دیکھا۔
یہودیوں کو دشمنی سمجھنے کے لیے مسلمان قرآن کی بعض آیتیں پیش کرتے ہیں مثلاً سورۃ المائدہ کی آیت نمبر82۔ مگر یہ درست نہیں۔ اس طرح کی آیتوں میں جن یہود کا ذکر ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر یہود تھے جو اس وقت مدینہ میں یا اس کے آس پاس آباد تھے۔ قرآن کی ان آیتوں میں عمومی طور پر قوم یہود کا ذکر نہیں ہے۔