Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13جولائی1997
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو عرب میں جاکر وہاں بہت بڑا کاروبار کررہے ہیں۔ ان کی بات چیت اور ان کی ہراداسے برتری کا احساس جھلکتا تھا۔ میں نے جنت دوزخ کی بات کی تو انہوں نے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ یہی ہر دولت مند آدمی کا حال ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس قسم کے لوگ روزانہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ دنیا کی جس چیز کو چاہیں اس کو وہ بآسانی اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس بناپر ان کے اندر غیر شعوری طور پر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ میرے پاس وہ قوت (Purchasing Power)ہے۔ جس سے میں دنیا کی ہرچیز حاصل کرسکتا ہوں۔ میری یہ قوت خرید وفروخت میں بھی میرے پاس رہے گی اور وہاں کل میں جو چیز چاہوں گا خرید لوں گا۔ حالاں کہ یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مال سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس فتنہ سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی طاقت رکھتا ہو اور ایسے لوگ بلاشبہ بہت کم ہیں۔