Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28جولائی1997
ایک ندوی عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب فکر اسلامی پڑھی۔ اس میں آپ نے عصر حاضر کے اکابر امت پر تنقید کی ہے۔ ہم کو تنقید سے اختلاف نہیں مگر آپ تو ہماری اکابر کی جڑاکھاڑرہے ہیں۔ آخر اس کو کس طرح برداشت کیا جائے۔
میں نے سوچا کہ مذکورہ ندوی نے ایسا کیوں کہا۔ میں نے جن شخصیتوں پر تنقید کی ہے اس میں ان کی نیت، ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، تقویٰ اور دیانت داری پر کوئی تنقید نہیں کی۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ ان حضرات نے موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو نہیں سمجھا اور اس کے مطابق امت کو رہنمائی نہ دے سکے۔
یہ ان کی شخصیت پر صرف ایک جزئی تنقید ہے پھر مذکورہ ندوی نے ایسا کیوں کہا کہ آپ ہمارے اکابر کی جڑاکھاڑرہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ یہ تنقید کی غلطی نہیں ہے بلکہ اکابر کے معتقدین کی سوچ کی غلطی ہے۔ اگر وہ ان اکابر کو ایمان و اخلاص اور عبادت وتقویٰ کے اعتبار سے اونچا درجہ دئے ہوئے ہوتے تو ان کو میری تنقید پر مذکورہ شکایت نہ ہوتی۔ اس کے بجائے وہ ان اکابر کی حیثیت امتیازی یہ قرار دئے ہوتے کہ وہ عصر حاضر کے مجدد ہیں۔ انہوں نے دور جدیدکے لحاظ سے امت کو رہنمائی دی۔ اور چونکہ میری تنقید سے ان کی یہ حیثیت امتیازی مشتبہ نظر آئی اس لیے ان کو محسوس ہوا کہ میں ان کی جڑاکھاڑرہا ہوں۔