Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23دسمبر1997
جدید ترقی یافتہ دنیا میں ایک ظاہرہ بار بار پیش آتا ہے۔وہ ہے بڑی بڑی کمپنیوں کا اچانک دیوالیہ ہوجانا مثلاً چند سال پہلے امریکہ کی عظیم ہوائی کمپنی پانی اہم دیوالیہ ہوکر ختم ہوگئی حال میںیہ بہران زیادہ بڑے پیمانہ پر پیدا ہوا جب کہ ہانگ کانگ ، جنوبی کوریا، ملیشیا، حتی کہ جاپان تک میں بڑی بڑی کمپنیاں اچانک ڈھ پڑیں۔
یہ ظاہرہ سودی اقتصادیات کا نتیجہ ہے سودی قرضوں کا لامحدود طور پر قابل حصول ہونا لوگوں کے اندر لامحدود طورپر بڑھنے کا جذبہ پیدا کردیتا ہے وہ خلیل سرمائیہ کے باوجود اپنے لیے اقتصادی ہمالیہ کھڑاکرلیتے ہیں یہ اقتصادی ھمالیہ صرف اس وقت تک چلتا ہے جب تک وہ سودی قرضے کی نسلیں اداکرنے کی پوزیشن میں ہوں جیسے ہی آمدنی اور ادائیگی کا یہ توازن ٹوٹتا ہے ان کا مصنوعی ھمالیہ اچانک دیوالیہ پن کا شکار ہوکر ڈھ پڑتا ہے۔
اسلام میں سود کے بجائے مضاربت کا اصول رکھا گیا ہے یعنی نفع اور نقصان دونوں میں شرکت کے اصول پر سرمایہ کاری تجارتی سود کا اصول غیر فطری ہے اس کے مقابلے میں تجارتی مضاریت کا اصول فطری سودی طریقہ میں اچانک مصنوعی بڑھوتری ہوتی ہے اس کے مقابلے میں مضاریت میں تدریجی بڑھوتری۔ یہی وجہ ہے کہ سودی اقتصادیات میں دیوالیہ پن کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے اور تجارتی مضاریت میں اس کا اندیشہ بہت کم۔