Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27جولائی1997
میرا ایک مضمون ’اسلام مذہب امن‘ کے عنوان سے قومی آواز (8جولائی)میں چھپا ہے۔اس مضمون کو میری کتاب ’دین انسانیت‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں میںنے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ طور پر صرف تین غزوات لڑے۔ بدر احد اور حنین آپ کے مخالفین نے بار بار آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی مگر ہر بار آپ نے حسن تدبیر کے ذریعہ جنگ کو ٹال دیا۔ سیرت کی کتابوں میں83غزوات لکھے جاتے ہیں۔ مگر ان میں تین باقاعدہ جنگ کے واقعات ہیں اور80جنگ سے اعراض کرنے کے۔ میرے اس مضمون پر ایک صاحب نے قومی آواز (25جولائی1997)میں ایک مراسلہ چھپوایا ہے جس میں انہوں نے مجھ پر ’’ناقص معلومات‘‘ کا الزام لگایا ہے وہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سے غزوات پیش آئے۔ مسئلہ غزوۂ خندق، غزوۂ فتح مکہ وغیرہ۔ ’’یہ اوربات ہے کہ جنگ کی نوبت نہیں آئی‘‘۔
میں نے اپنے مضمون میں تفصیل کے ساتھ یہ بتایا تھا کہ آپ ؐ اصولی طور پر امن کو پسند فرماتے تھے یہ دراصل آپ کے مخالفین تھے جنہوں نے آپ کو بار بار جنگ میں الجھانا چاہا مگ آپ نے حسن تدبیر سے جنگی مڈبھیڑ کی نوبت نہ آنے دی۔ مثلاً غزوۂ اخران میں خندق کھودکر اپنے اور دشمنی کے درمیان ایک ایسا نظام قائم کردیا۔ غزوۂ فتح مکہ میں انتہائی خاموش سفر کا طریقہ اختیار کیا وغیرہ۔ پھر اختلاف کس بات کا۔ میرے ناقدین اکثر اس قسم کی بے اصل تنقید یں کرتے ہیں۔ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ ان کا جواب دورمیں کہتا ہوں کہ قارئین کے اندر خود یہ صلاحیت ہونی چاہیے ےکہ وہ اس قسم کی تنقیدوں کا خود تجربہ کرکے ان کا بے حقیقت ہو یا جان لیں۔ اور اگر قارئین میں تجزیہ کی استعداد نہ ہو تو فکری مہم کے ذریعہ ان کی استعداد کو بڑھانا زیادہ ضروری کام ہے اور میں خدا کے فضل سے اسی مذہبی کام میں معروف ہوں۔