Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19اگست1997
ایک کشمیری نوجوان صبح کے وقت آئے۔ ان کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔ اس میں سے انہوں نے ایک کتاب نکال کر مجھے دی۔ رنگین چھپی ہوئی اس کتاب کا نام تھا، ’مجروح کشمیر‘ اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا کہ اس کا نام ہوناچاہیے۔ بیوقوف کشمیر۔ وہ غصہ ہوگئے اور لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ میں نے السلام علیکم کہہ کر ان سے مصافحہ کیا اور رخصت ہوکر اندرآگیا۔
کشمیر اور اس طرح کے دوسرے مقامات پر مسلمان اس قسم کی بولی بول رہے ہیں۔ مگر ایسی بولی شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ یہ مسلمان اگر اپنی یہ لڑائی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کررہے ہیں تو انہیں نقصانات پر واویلا کرنے کے بجائے کہنا چاہیے کہ: فزت برب الکعبہ (کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوگیا) اور اگر ان واقعات کو عقل کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ سراسر احمقانہ اقدام تھا۔ عقل کا تعاضا یہ ہے کہ ہر اقدام کو رزلٹ (نتیجہ) کے معیار پر دیکھا جائے۔ اگر اقدام کا مثبت نتیجہ نکلنے والا ہو تو اقدام کہا جائے ورنہ حالت موجودہ (Statasqno) پر راضی رہ کر ممکن دائرے میں اپنی زندگی کی تعمیر کی جائے۔