Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29ستمبر1997
مدراس کے دوتعلیم یافتہ مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف آپ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ مسلم دشمن لابی کے آدمی ہے۔ یہ بات اور بھی کئی مسلمانوں نے بار بار کہی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوںنے سیاسی اسباب کی بناپر غیر مسلم لوگوں (ہندو،عیسائی ، یہودی) کو دشمن کے روپ میں دیکھتے ہیں ۔ جب آپ کسی کو دشمن سمجھ لیں تو اس سے قطع تعلق کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس میں غیر مسلم قوموں کو مدعو کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ اس لیے جب بھی کوئی موقع ملتا ہے تو میں ان کے اجتماعات میں جاتا ہوں اور وہاں انہیں اسلام کے بارے میں بتاتاہوں۔
زاویہ نظر کا یہی فرق مذکورہ غلط فہمی کا سبب ہے۔ ان مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جن قوموں سے انسانی دشمنی ہے ان کے پاس میں کیوں جاتا ہوں۔ حالانکہ اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں کہ ہمارے اور ان قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے تو وہ خوش ہوں کہ مسلمانوں میں سے کم از کم ایک آدمی تو ایسا ہے جو غیر مسلموں کے اجتماعات میں جاکر انہیں اسلام کا پیغام پہنچارہا ہے۔