Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17اکتوبر1997
ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک قاری سے کرائی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ قرأت سبع کے ماہر ہیں میں نے کہا کہ کسی ایک آیت کو لےکر آپ اس کوسات انداز سے پڑھئیے۔ انہوں نے اس کے مطابق پڑھ کر سنایا۔
حدیث میں آیا ہے کہ انما انزل القران سبقہ آحرف۔ اس حدیث کی بنیاد پر عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کی سات تسلیم شدہ قرأتیں ہیں۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی ایک ہی مسلمہ قرأت ہے اور وہ قریش کی قرأت ہے۔ بقیہ قرأتیں جو سات سے بھی زیادہ تھیں ان میں سے ہر ایک رعایتی قرأت ہے نہ کہ مسلمہ قرأت۔ زمانۂ نزول میں عرب میں عربی زبان کے مختلف لہجے رائج تھے۔ ان قبائل نے جب اسلام قبول کیا تو ہر ایک اپنے اپنے لہجہ کے مطابق قرآن پڑھنے لگااس وقت لہجہ کے سوال پر سخت نزاع پیدا ہوئی۔ اس کو ختم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن سات قرأتوں پر اتراہے۔ یعنی کتابت الفاظ میں تفسیر کئے بغیر لہجہ کے اعتبار سے جس طرح بھی پڑھا جائے وہ درست ہوگا۔
مثال کے طور پر انگریزی کا ایک لہجہ وہ ہے جو برطانیہ میں رائج ہے۔ اسی طرح مختلف ملکوں کے لوگ اپنے اپنے لہجہ میں انگریزی بولتے ہیں۔ اب اگر کہا جائے کہ انگریزی زبان کے دس لہجے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس کے دس مستند لہجے ہیں۔ اصل مستند لہجہ تو صرف ایک ہی ہے لیکن عملی ضرورت کی بناپر قوم کو یہ رخصت دے دی گئی کہ وہ اپنے اپنے لہجہ میں انگریزی بولے۔