Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6دسمبر1997
5دسمبر کو میں متھرا میں تھا وہاں متھراریفائزی کے کیمپس میں ایک جلسہ تھا میں نے یہاں اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔
متھرا ریفائزی پچھلے دس سال سے قائم ہے۔ اس کے بارے میں اخباری رپورٹوں کو پڑھ کر بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی صرف ایک بات جانتا تھا وہ یہ کہ اس کے چمنوں سے جو دھواں نکلتا ہے اس کی تاج محل کے سفید پتھر کا لے ہورہے ہیں۔ ایک اور سبق آموز بات پھر یہاں برسوں سے موجود تھی۔ مگر میں اس سے واقف نہ ہوسکا۔ صرف اس لیے کہ وہ اخباروں میں رپورٹ نہ ہوسکی وہ یہ کہ کچھ سمجھدار لوگوں کی کوشش سے یہاں لیبر اور منجمنٹ کے درمیان وہ جھگڑا کسی جو عام طور پر کارخانوں میں پایا جاتا ہے یہاں ٹریڈیونین قائم ہے مگر یہاں کی سطو کتابیں ہوئی اس کے لیڈر سے میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی نزائی بات پیش آتی ہے تو ہم ایسا نہیں کرتے کہ مزدوروں کو اکٹھا کرکے ان کے سامنے پرجوش تقریر کریں بلکہ ہم منجمنٹ کے ساتھ میز پر بیٹھتے ہیں اور بات چیت سے معاملے کو طے کرلیتے ہیں۔
متھرا ریفائزی کا یہ رواج بے حد مفید ہے مگر اخباروں کو صرف بری خبروں سے دلچسپی ہے ان کو اچھی خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے انہوں نے متھرا ریفائزی کے ایک واقعہ کو چھاپا اور دوسرے واقعہ کو نظرانداز کردیا۔ موجودہ زمانہ میں یکطرفہ مثت ہمارے بیشتر ملکوں کی ذمہ دارہے۔