Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29جنوری1997
دہلی کی سرحد پر حکومت ہریانہ نے ایک ٹورسٹ اسپاٹ بنایا ہے۔ اس کو سورج کنڈ کہا جاتا ہے۔ 29-27جنوری کو یہاں ایک میٹنگ تھی۔ اس میں تقریباً دو درجن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو شریک ہوئے۔ اس میٹنگ کا انتظام سوادھیائے والوں نے کیا تھا۔ داداجی پانڈو رنگ شاستری بھی اس میں شریک تھے۔
میں اس میٹنگ میں شریک ہوا۔ مگر حسب عادت میں خاموشی کے ساتھ صرف سنتا رہا۔ 27اور28جنوری کو سارے دن سے لے کر رات تک لوگوں کی بیٹھکیں ہوتی رہیں۔ ہر آدمی بولنے کی کوشش کرتا تھا۔ غالباً کوئی بھی شخص نہیں بچا جو کئی بار نہ بولا ہو۔ تیسرے دن بھی میں خاموش تھا مگر لوگوں نے اصرار کیا تو میں نے تقریباً100منٹ کی تقریر کی۔ میں نے دیکھا کہ لوگ سراپا گوش ہوکر میری تقریر سنرے رہے۔ اتنی توجہ کے ساتھ کسی کی بھی تقریر نہیں سنی گئی تھی۔
اس کا سبب میری مسلسل خاموشی تھی۔ میری خاموشی کی وجہ سے میرے بارے میں ان کے اندر ایک تجسس (Curissity)پیدا ہوگیا۔ اس تجسس کی بناپر ایسا ہوا کہ جب میں بولا تو تمام لوگ ہمہ تن منوجے ہوکر میری بات سنتے تھے۔