Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم جولائی1997
ہانگ کانگ جغرافی اعتبار سے چین کا حصہ ہے۔ وہ خشکی کے راستہ سے چین سے ملا ہوا ہے۔ 156سال پہلے برٹش ایمپائر نے اس پر قبضہ کرلیا اور چین کو مجبورکیا کہ وہ اس کو لیز پر انہیں دے دے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برٹش ایمپائر کمزور ہوگیا۔ دوسری طرف چین نے ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل کرلی۔ چین کے لیے ممکن تھا کہ وہ کسی بھی دن اپنی فوجوں کو ہانگ کانگ میں داخل کردے اور اس کو دوبارہ اپنے قبضہ میں کرلے۔ مگر چین نے ایسا نہیں کیا اس نے برٹش حکومت پر امن گفتگو شروع کردی۔ یہ گفتگو تو بیس سال تک جاری رہی۔خر کار برٹش حکومت اس پر راضی ہوگئی اور یکم جولائی1997کو اس نے ہانگ کانگ کو باقاعدہ جنگ کے حوالے کردیا۔
اس کے مقابلہ میں مسلم دنیا کو دیکھنے مسلمان جگہ جگہ اپنے سیاسی معنوں کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ ہر جگہ انہوں نے اپنی تحریک کو متشددانہ اصول پر چلارکھاہے۔ مثلاً کشمیر، فلسطین، فلپائن، برما، چیچنیا، بوسنیا، افغانستان، مصر، الجزائر وغیرہ۔ یہ مسلم تحریکیں ہر جگہ مکمل طور پر ناکام ہورہی ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ زمانہ کے خلاف ہیں۔ موجودہ زمانہ پُرامن تحریک(پیس فل ایکٹوبزم) کا زمانہ ہے۔ اس کے برعکس اپنی تحریکوں کو متشددانہ عمل (وائلنٹ ایکٹویزم) کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ یہ کسی قوم کے خلاف لڑنا نہیں ہے بلکہ زمانہ کے خلاف لڑنا ہے۔ اور زمانہ کے خلاف لڑنا ، شاعری اور ادب کی مثال دنیا میں توجاری رہ سکتا ہے مگر حقیقت کی دنیا میں اس کا کامیاب طور پر جاری رہنا ممکن نہیں۔