Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9اگست1997
حیدر آباد سے پانچ تعلیم یافتہ مسلمان دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم میں دو دن رہے، واپسی میں انہوں نے دہلی میں مجھ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند اتنا بڑا ادارہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کے جامعہ ازہر کے بعد وہ سب سے بڑا اسلامی مدرسہ ہے۔ مگر ہم کو وہاں جس مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا تھا اس کے غسل خانہ کا حال یہ تھا کہ وہاں بالٹی موجود نہ تھی ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم وہاں غسل کس طرح کریں۔
میں نے کہا کہ ایسی حالت میں ایک شکل یہ ہے کہ بالٹی کے سوال کر لے کر شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی جائے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری صورت یہ ہے کہ آپ لوگ پانچ آدمی تھے۔ آپ نے آپس میں چندہ کرکے رقم اکٹھا کرکے اور ایک بالٹی خیرد کر وہاں کے غسل خانہ میں رکھ دیتے۔ پہلے طریقہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب کہ دوسرا طریقہ آپ کے لیے زبردست ثواب کا طریقہ ہے۔ اس سے دوران قیام آپ کا مسئلہ حل ہوتا اور اس کے بعد وہ بالٹی آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتی۔