Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26ستمبر1997
عرب دنیا میں سیکڑوں سال سے یہودی اور مسلمان پرامن طور پر مل جل کر رہتے تھے۔ یہودی چونکہ اقلیت میں تھے انہوں نے عام طور پر مسلم کلچر کو اختیار کرلیا تھا۔ حتیٰ کہ بظاہر ایک مسلم عرب اور ایک یہودی عرب میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اس تاریخی توازن کو آسٹریا میں پیدا ہونے والے ایک یہودی لیڈر تھیوڈورھرال (1860-1904)نے آزاد۔ اس نے یہودی وطن (Jewish Homeland)کا نظریہ پیش کیا۔ اور اس کی زبردست تبلیغ کی۔ یہودی وطن کے اس نظریہ نے آخرکار اسرائیل کی صورت اختیار کی۔ اس نے عربوں اور یہودیوں کے درمیان نفرت اور تشدد، ایسا دروازہ کھول دیا، جو شاید قیامت تک بند ہونے والا نہیں۔
ٹھیک اسی قسم کا واقعہ برصغیر ہند میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ برصغیر میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے نہایت مل جل کر رہ رہے تھے۔ اس کے بعد مسٹر محمد علی جناح (1876-1948)کا ظہور ہوا۔ انہوں نے برصغیر کی تقسیم کرکے ایک مسلم ہوم لینڈ کا تصور پیش کیا جس نے آخرکار پاکستان کی صورت اختیار کی۔ اس تحریک نے دوبارہ برصغیر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تعصب کا کبھی نہ ختم ہونے والا طوفان برپا کردیا۔ برصغیر ہند کے تمام مثبت امکانات اس منفی تحریک کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔