Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8جولائی1997
ایک اعلیٰ تعلیم مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مشہور صحافی مسٹر خوشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ایک سفر کے دوران میں اردن اور اسرائیل کے اوپر سے گزرا۔ ہمارا جہاز جبت اس کے اوپر اڑرہا تھا تو جہاز کے نیچے ہر طرف ریتیلے صحرا دکھائی دے رہے تھے لیکن جیسے ہی جہاز اسرائیل کی سرحد میں داخل ہوا ہر طرف سرسبز کھیت اور باغ دکھائی دینے لگے۔ مذکورہ مسلم دانشور نے کہا کہ اردن کا بڑا حصہ تو صحرا ہی ہے۔ اس لیے اس کو بلقاء کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا کہ اسرائیل (فلسطین) کا یہ حصہ بھی پہلے صحرا کا تھا۔ وہ شروع سے سرسبز علاقہ نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو امریکی ڈالر کا کرشمہ ہے جو اسرائیل کو ہر سال بہت بڑی مقدار میں ملتا ہے۔ میں نے کہا کہ امریکی ڈالر تو اردن کو بھی دئے جاتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیل کو زیادہ امریکی ڈالر دئے جاتے ہیں اور اردن کو کم۔ میں نے دوبارہ کہا کہ سعودی عرب کے پاس تو صحرا بھی ہے اور امریکہ کے دئے بغیر ڈالر کی دولت بھی۔ پھر اسرائیل کا زرعی معجزہ وہاں کیوں نہیں پیش آیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اپنی معتصبانہ سوچ کی وجہ سے یہ اہلیت کھو چکے ہیں کہ وہ کسی معاملہ میں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرسکیں۔