Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اکتوبر1997
صحیحین اور دوسری کتابوں میں ایک سبط ان الفاظ میں آئی ہے: ان الناس کا بوہل المائۃ لا لنکا ڈتجدفیھا (احلۃ: فتح الباری 341/11۔ مشکوٰۃ المصابیح1472/3)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اونٹوں کا یہ حال ہے کہ سو اونٹ میں مشکل سے کوئی ایک اونٹ سواری کے قابل ہوتا ہے اسی طرح انسانوں میں بھی سیکڑوں انسانوں میں مشکل سے کوئی ایک انسان کام کا ملتا ہے۔ بن حجر نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس سے میرا اونٹ یا انسان کا سوال الانفقیا وبالنیت والا ہوتا ہے۔ (343)
اس حدیث میں غورکرے کہ کچھ میری مسجھ میں یہ بات آتی ہے کہ اس سے بڑا مزاج ہے جہاں تک جسمانی اور ذہنی صلاحیت کا سوال ہے ہر آدمی کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں اس کے نہ ضروری ہے کہ آدمی کے اندر صحیح مزاج پایا جاتا ہو۔ اور صحیح مزاج میں سب سے زیادہ اہمیت نرمی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نرمی اور سماعت کا مزاج ہی وہ صفت ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی آدمی کو کارآمد بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر نرمی اور سماعت کا مزاج نہ ہو وہ اعلیٰ صلاحیت رکھنے کے باوجود اپنے اجتماعی استعمال میں ناکام رہے گا ایسا آدمی اپنی ذاتی اور انفرادی سطح پر کچھ کام کرسکتا ہے۔ مگر جہاں دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا جو وہاں وہ ناکام ثابت ہوگا۔ حالانکہ مل جل کر کام کرنے ہی سے کوئی بڑا کارنامہ وقوع میں آتا ہے۔