Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16فروری1997
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ذمہ دار اعلیٰ نے لکھا ہے کہ1316ھ میں مولانا محمد علی مونگیری نے دارالعلوم لکھنؤ کی بنیاد ڈالی جس کا نمایاں مقصد الجمع بین القدیم ومصالح والجدید النافع کا پیغام عام کرتا تھا (دعوت25جنوری1997)
یہی موجودہ زمانہ میں اکثر اسلام پسند علماء کا نقطۂ نظر رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید میں کچھ چیزیں نافع ہیں اور کچھ چیزیں غیر نافع۔ ہمیں چاہیے کہ نافع کو لے لیں اور غیر نافع کو رد کردیں۔ مثال کے طور پر اسی نقطۂ نظر کے تحت انہوں نے کہا کہ کار ٹکنالوجی نافع ہے اس لیے اس کو لے لو۔ اور سیکولرزم غیر نافع یا غیر صالح ہے اس لیے اس کو رد کردو۔
مگر حقیقت کی دنیا میں اس قسم کی ثنویت (Dischofomy)نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر سیکولزم بظاہر ایک غیر دینی نظریہ ہے مگر اس میں یہ عظیم فائدہ ہے کہ سیکولر نظریہ نایہ کیا کہ ریاست کو اس کا پابند کردیا کہ وہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت (Non in Reference)کی پالیسی اختیار کرے اس کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ریاست کی طرف سے مذہبی جبر کا خاتمہ ہوگیا اور اہل مذہب کو یہ موقع مل گیا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں آزادانہ طور پر اس کو اختیار کریں۔
چیزوں کو اس طرح درجہ بندی (Categorization)بجائے خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق خود چیزوں میں نہیں ہونا۔ بلکہ چیزوں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ اچھا استعمال ایک چیز کو اچھا بناتا ہے اور برا استعمال اس چیز کو برا بنادیتا ہے۔