Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم ستمبر1997
یکم ستمبر کو میں سلطنت عمان میں تھا۔ وہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے بتایا کہ ان کے آفس میں ایک ہندونوجوان کام کرتے ہیں اور مذکورہ مسلمان کے گھر اکثر ان کا آناجانا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میری ماں اس ہندو نوجوان کو اپنے بیٹے کی طرح ماننے لگی۔ ایک روز انہوں نے اس سے کہا: بیٹے، مسلما ہوجاؤ، جلنے سے بچ جاؤگے۔ اس ہندو نوجوان نے مجھ سے بھی ملاقات کی۔ اس نے مجھ سے اسلام کے بارے میں بہت سے سوالات کئے یہاں تک کہ اس کو پورا اطمینان ہوگیا۔
اسی طرح کھتولی کے پاس ایک گاؤں ہے۔ وہاں ایک زمیندار خاندان رہتا ہے۔ اس کے گھر ایک ہندو عورت صفائی کے لیے روزانہ آتی تھی۔ گھر کی چھوٹی بچی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ ایک روز صفائی والی عورت گھر آئی تو بچی نے خلاف معمول ہنس کر اس کا استقبال نہیں کیا بلکہ وہ بری طرح رونے لگی۔ صفائی والی عورت گھبراگئی، اس نے بچی کو گود میں اٹھالیا اور سبب پوچھا۔ بچی نے کہا کہ ہمارے استاذ کہتے ہیں کہ خدا کو پوجنے والے جنت میں جائیں گے اور بتوں کو پوجنے والے جہنم میں جائیں گے۔ میں اس لہیے رورہی ہوں کہ مرنے کے بعد میرا اور تمہارا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ ہم خدا کو پوجتے ہیں اس لیے ہم جنت میں جائیں گے اور تم بتوں کو پوجتی ہو اس لیے تم جہنم میں جاؤگی۔ صفائی والی عورت نے کہا کہ اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ ہم بھی تمہارے مذہب میں آجاتے ہیں اورآج سے ہم بھی بتوں کو چھوڑکر خدا کی پوجا کریں گے۔
یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ سچی ہمجدردی کے تحت دل سے نکلی ہوئی ایک بات کتنا زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ علمی اور منطقی دلائل سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔