Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5جولائی1997
میں بچپن سے سنتا آرہا تھا کہ فلاں صاحب علم کا دریا ہیں۔ مثلاً ابن تیمیہ شاہ ولی اللہ ابوالکلام آزاد سید سلیمان ندوی وغیرہ۔ پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد جب میں نے خود اس طرح کے لوگوں کا مطالعہ کیا تو مجھے ’’وہ علم کا دریا‘‘ نظر نہ آئے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ میں اکثر اپنی لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم سے علمی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتا ہوں۔ اس موضوع پر گفتگو کی تو میری لڑکی نے کہا کہ اصلی ہے کہ یہ لوگ علم کا دریا نہیں تھے بلکہ معلومات کا دریا تھے۔ ایسے لوگوں کے یہاں معلومات کی کثرت دیکھ کر لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ علم میں بھی پڑھے ہوئے ہیں۔
یہ بات بالکل درست ہے۔ کچھ لوگوں کے اندر حافظ کی غیر معمولی سی جیب ہوتی ہے۔ ان کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو تصوری حافظ (Photographic memory)کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہے کچھ پڑھتے ہوں سب انہیں یاد رہتا ہے وہ اپنی تحریر و تقریر میں اپنی ان بردواشتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ اس سے تو سمجھ لیتے ہیں کہ بڑے عالم ہیں حالانکہ وہ صاحب معلومات ہوتے ہیں نہ کہ صاحب علم۔ ایسے لوگوں کو آج کل کی اصطلاح میں زندہ کمپیوٹر کہا جاسکتا ہے۔ کمپیوٹر معلومات خزانہ ہوتا ہے مگر کمپیوٹر کے پاس وہ دماغ نہیں ہوتا ہے جو حکیمانہ نصرت کی خصوصیت رکھتا ہو۔
علم سے مراد حکمت ہے۔ یعنی فہم و تدبر اور تخلیل و تجربہ۔ انسانوں میں صاحب معلومات تو بہت ہوتے ہیں۔ مگر مذکورہ معنوں میں صاحب علم ساری تاریخ میں بہت کم پائے گئے ہیں۔ صاحب معلومات بننے کے لیے حافظ کی صلاحیت درکارہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں صاحب علم وہ ہے جس کے اندر تخلیقیت (Creativity)کا مادہ پایا جاتا ہے۔