Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم نومبر1997
اپریل1997میں شطرنج کا ایک انوکھا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں ایک طرف ایک انسان تھا ۔ یہ گیسپرGary Kasparovتھا جو روسی ہے اور شطرنج کا ورلڈ چمپئن سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک کمپیوٹر تھا جس کو ڈیپ بلو کہا جاتا ہے۔ یہ کمپیوٹر خصوصی طور پر آٹھ سال کی محنت سے اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انسان اور کمپیوٹر کے درمیان جب شطرنج کا کھیل شروع ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں کمپیوٹر نے انسان کو ہرادیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کمپیوٹر میں جو پراسسنگ کی گئی تھی اس کے نتیجہ میں کمپیوٹر ایک منٹ میں200ملین چالیں سوچ سکتا تھا جب کہ تیز سے تیز انسان بھی بمشکل ایک منٹ میں پانچ چالیں سوچ سکتا ہے۔
اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ آج شطرنج کا کوئی کھلاڑی اگر اپنے کھیل میں جیتے تو وہ بہت سے بہت ’’پانچ درجہ‘‘ کی خوشی حاصل کرسکتا ہے۔ مذکورہ کمپیوٹر علامتی طور پر بتارہا ہے کہ جنت میں انسانی ذہن کے امکانات بہت زیادہ بڑھادئے جائیں گے اس وقت انسان اس قابل ہوجائے گا کہ’’ 200ملین‘‘ درجہ کی خوشی حاصل کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا میں انسان کسی خوشی کی واقعہ سے صرف محدود طور پر انجوائے کرسکتا ہے مگر آخرت میں وہ حوشی کے واقعات سے لامحدود طور پر انجوائے کرسکے گا۔