Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26اکتوبر1997
ایک صاحب ہیں جنہوں نے ایک عربی مدرسہ سے فراغت حاصل کی ہے۔ ان کو میں پچھلے پچاس سال سے جانتا ہوں۔ اب ان کی عمر80سال ہوچکی ہے۔ غالباً25سال بعد آج ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کا معیار فکر جو پچیس سال پہلے تھا وہی آج بھی ہے۔ یہ تجربہ مجھے اکثر ہوتا ہے اس کا سبب کیا ہے۔
لوگوں کے اندر ذہنی ارتقا نہ ہونے کا واحد سبب یہ ہے کہ ان کے اندر اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ Anti self thinkingہی واحد چیز ہے جو آدمی کے ذہنی معیار کو مسلسل بند کرتی ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتو آدمی فکری اور ذہنی حیثیت سے ایک مقام پر ٹھہر کر رہ جائے گا۔
اپنے خلاف سوچنا بظاہر ایک مشکل کام ہے مگر وہ بے حد لذیذکام ہے۔ اس کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی ہر دن ایک طرف اپنی تصیح کرے اور دوسری طرف نئی نئی باتوں کے ذریعہ اپنے ذہنی خزانہ میں اضافہ کرتا رہے۔ میں اپنے اندر خدا کے فضل سے یہ چیز پیدائشی طور پر پاتاہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے خلاف سوچنا میرا روزانہ کا محبوب مشغلہ ہے۔ میں صبح و شام اس میں جیتاہوں۔ میں اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ کوئی معقول بات صرف اس لیے نہ مانوں کہ اس سے میری ذات پر زدپڑرہی ہے یا کسی نئے تصور پر صرف اس لیے کھلے ذہن کے ساتھ غورنہ کرسکوں کہ وہ میرے اب تک کے خیالات کو چیلنج کررہی ہے میری شخصیت میں مسلسل طور پر تدریجی ارتقاء کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہ اس Anti self thinkingکا نتیجہ ہے۔