Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25جنوری1997
مولانا ابوالبقاندوی جامعۃ الفلاح میں استاد ہیں۔ وہ ایک اور ندوی عالم کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عمومی طور پر ایک تشدد پسند قوم بن گئے ہیں۔ وہ جنگ کی طاقت کو جانتے ہیں۔ مگر امن کی طاقت سے بے خبر ہیں۔ میں نے کہا کہ مدینہ میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیجو کیا کرتا تھا۔ آپ نے ایک مجلس میں فرمایا اقطم لسنہ۔ بعض افراد نے اس کو لفظی معنی میں لے کر سمجھا کہ آ پ اس کی زبان کاٹ دینے کا حکم دے رہے ہیں۔ چنانچہ وہ اس کی تدبیر سوچنےلگے۔ مگر دوسرے صاحب نے کہا کہ آپ کی یہ منشا نہیں ہے۔ بلکہ آپ کی منشا یہ ہے کہ اس کی تالیف قلب کردو وہ چپ ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف سطع لسان سے واقف ہیں۔ وہ تالیف قلب کی حکمت سے بالکل بے خبر ہیں۔ حالانکہ تالیف قلب یا علمی استدلال کی تدبیر قطع لسان کے طریقہ سے ہزاروں گنا زیادہ مفید اور طاقت ور ہے۔