Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5مئی1997
الرسالہ کے لیے ایک معاون ایڈیٹر کی ضرورت ہے اس کے لیے اخباروں میں اشتہار دیا گیا۔ پچھلے چند مہینوں میں بہت سے نوجوان انٹرویو کے لیے آئے۔ یہ سب عربی مدارس کے فارغین تھے۔ یا عربی اور اردو میں ایم اے کی ڈگری لیے ہوئے تھے۔ مگر ان میں سے ہر ایک ذہن افلاس کی حد تک نااہل تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں نا اہل لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ اصل میں یہ وہی ظاہرۃ ہے جس کو حدیث میں ذھاب الناس کہا گیا ہے۔
حدیث کے شارحین عام طور پر اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ اچھے لوگ مرجائیں گے اور دینی حلقوں میں صرف برے لوگ باقی رہیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔ یہ دراصل صنعتی انقلاب کے بعد سامنے آنے والی ایک صورت حال کی پیشن گوئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں ساری رونقیں اور دولت کی کشش اتنی بڑھ گئی ہے کہ سارے ذہین لوگ اس کی طرف بھاگے چلے جارہے ہیں۔ اب دینی اداروں میں وہی لوگ باقی رہ گئے ہیں جو بے صلاحیت ہیں اور اس بناپر وہ جدید مادی نقشوں میں اپنے لیے جگہ پانے کی امید نہیں رکھتے۔