Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2جنوری1997
ایک ندوی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا ہوں اور اس کو پسند کرتا ہوں۔ مگر آپ صلح حدیبیہ کے نام سے جو فلسفہ پیش کرتے ہیں وہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ لوگ صلح حدیبیہ کو بزدلی سمجھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ آپ کو کم تر چیز نظر آتی ہے۔ حالانکہ صلح حدیبیہ ایک حکیمانہ نذیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ کو اپنے میدان میں لایا جائے۔
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا علی میاں اور ایک پہلوان کے درمیان بحث ہو۔ پہلوان کہے کہ مولانا، آپ اکھاڑے میں آئے اور مجھ سے مقابلہ کیجئے۔ اگر مولانا اس کی دعوت کو قبول کرکے اکھاڑے میں اتریں تو یہ یقینی طور پر مولانا کی شکست ہوگی۔ اس کے برعکس مولانا اگر پہلوان کو اس پر راضی کریں کہ دونوں میز پر بیٹھیں اور زیربحث مسئلہ پر علمی انداز میںگفتگو کریں تو اس دوسری صورت میں پہلوان کے اوپر مولانا کی فتح یقینی ہوجائے گی کہ آپ پیشگی طور پر یہ کہہ دیں گے کہ مولانا آپ تو جیت گئے۔
یہی معاملہ اسلام اور غیر اسلام کا ہے۔ طاقت کے میدان میں غیر اسلامی گروہ نے برتر حیثیت حاصل کرلی ہے۔ مگر دلیل کے میدان میں اسلام پہلے بھی برترتھا اور آج بھی وہی برتر ہے۔ اس لیے اہل اسلام کے لیے بہترین عقل مندی ہیں کہ وہ غیر اسلامی قوتوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں نہ کریں بلکہ ان کو دلیل کے میدان میں لائیں۔ دلیل کے میدان میں آتے ہی غیر اسلام کے اوپر اسلام کی فتح یقینی ہوجائے گی۔